Create an Account
~ بیماری، رحمت باری ~
کہتے ہیں جس طرح صحت اللہ کی نعمت ہے، اسی طرح بیماری بھی ہے۔ ادھر میں اپنی دوست نفیسہ کا واقعہ سنانا چاہوں گی جو مرگی کی مریض ہے مگر الله نے اس کی بیماری کو اس کے لئے بےپناہ خیر کا باعث بنایا۔
بارہ سال کی عمر سے بیس سال کی عمر تک نفیسہ کو تقریبا تیس دورے پڑے، گو بیچ میں کبھی سالوں کا بھی وقفہ آیا۔ وہ ذہنی تکلیف سے بھی گذری اور جسمانی تکلیفوں سے بھی، دو مرتبہ سر پھٹا، پانچ مرتبہ کندھا نکلا اور کئی ساری چھوٹی چوٹیں لگیں۔ مگر بقول نفیسہ کے اللہ کی بےشمار نعمتوں میں سے مرگی میں مبتلا ہونا اس کی ایک عظیم نعمت ہے جس کے ذریعے اللہ نے اس کو بہت نوازا۔
چنانچہ نفیسہ کے لئے بیماری کا پہلا تحفہ عاجزی تھا۔ اس طرح کہ شروع کے دس پندرہ دوروں میں اس کو کبھی جسمانی تکلیف نہیں ہوئی، البتہ اس کو شدید ذہنی تکلیف ہوتی۔ اس لئے کہ جب دورہ شروع ہوتا تو وہ کچھ لمحوں تک ہوش میں ہوتی اور بےبسی سے اپنے ہاتھ پاؤں مڑتے ہوئے دیکھتی۔ اس بےبسی کے احساس کی وجہ سے اس کو جو ذہنی تکلیف ہوتی وہ جسمانی تکلیف سے کہیں زیادہ اذیت ناک ہوتی تھی۔
مگر اس احساس بےبسی نے اس کو ایک بہت اہم سبق سکھایا۔ ایک دن اس کی امی نے اس کو کہا، “نفیسہ، اللہ تمہیں دکھانا چاہ رہے ہیں کہ تم کچھ بھی نہیں ہو۔ تم خود دیکھتی ہو کہ تم کس قدر بے بس ہوجاتی ہو۔ اللہ تمہیں تمہاری اوقات یاد دلا رہے ہیں۔” امی کی اس بات پر نفیسہ نے غور کیا تو اس کو احساس ہوا کہ واقعی اس کو کچھ معاملاتے میں اپنا رویہ بہتر کرنے کی ضرورت تھی۔ چنانچہ بیماری سے پہلے نفیسہ بہت سخت مزاج تھی، مگر چند مہینوں کے بعد اس کا مزاج یکسر بدل گیا اور اس کے قریبی ساتھیوں نے بھی اس بات کی گواہی دی کہ وہ پہلے کی نسبت بہت نرم ملائم ہوگئی ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ بعد میں نفیسہ کو جسمانی تکلیف ضرور ہوئی، لیکن وہ ذھنی تکلیف کبھی دوبارہ نہیں ہوئی جو پہلے ہوتی تھی۔
رضائے الہی اور ثواب آخرت کا سوچ کر نفیسہ بہت حوصلہ پاتی تھی۔ ایک مرتبہ صحیح مسلم کے سبق کے دوران نفیسہ کی نظر سے مرگی کے متعلق حدیث گذری کہ کس طرح ایک سیاہ فام عورت نے آپ صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا، یا رسول اللہ، مجھے مرگی کے دورے پڑتے ہیں جن میں میرے جسم سے کپڑا ہٹ جاتا ہے۔ پس میرے لئے اللہ سے دعا کرلیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے لئے دعا کروں اور آپ ٹھیک ہوجائیں گی۔ اور اگر چاہیں تو صبر کرلیں اور آپ کو جنت مل جائے گی۔ یہ سن کر صحابیہ نے فورا جواب دیا، “پھر میں صبر کروں گی، بس اللہ سے دعا کریں کہ میرے کپڑے نہ ہٹا کریں۔” چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا کی۔ اس کے بعد عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جب بھی ان صحابیہ کو دیکھتے تو اپنے ساتھیوں سے فرماتے، آؤ میں تمہیں جنت کی ایک عورت دکھاؤں۔
نفیسہ یہ حدیث پہلے بھی سن چکی تھی، مگر اس بار امام نووی کی تشریح پڑھ کر وہ خوشی سے جھوم اٹھی۔ انہوں نے لکھا کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مرگی کے دورے پر اجر عظیم ملتا ہے، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر صبر کرنے کے بدلے میں جنت کا وعدہ فرمایا۔
اس حدیث کو پڑھنے سے پہلے نفیسہ دو ہجرت کرنے والوں کی فضیلت والی حدیث بھی پڑھ چکی تھی اور یہ کہ کس طرح ابو موسی اشعری اور ان کے ساتھی رضی اللہ عنہم بار بار حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے پاس آکر یہ حدیث سنتے اور وہ فرماتیں کہ اس حدیث سے زیادہ ان کو دنیا کی کوئی چیز عزیز نہ تھی (اس لئے کہ انہوں نے بھی دو ہجرتیں کی تھیں)۔ مگر نفیسہ کو سمجھ میں نہیں آتی کہ ایک حدیث کیسے انسان کو اس قدر عزیز ہوسکتی ہے۔ لیکن پھر وہ یہ سوچتی کہ صحابہ کی تو الگ شان تھی اور ان کے غم اور خوشی کے معیار ہم سے یکسر مختلف تھے۔
لیکن پھر ایک مرتبہ جب وہ دورے کے بعد جاگی اور وہ مرگی والی حدیث یاد کررہی تھی تو اس کو سمجھ آئی کہ فقط ایک حدیث کیسے انسان کو اتنی عزیز ہوسکتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالی نے ایک انسان کی اس تکلیف کو جانچا جو کوئی اور نہیں جانچ سکا۔ جبکہ وہ تو عظیم خالق، اس کی اور ایک حقیر انسان کی کیا نسبت؟ لیکن اس کے باوجود اللہ نے نہ صرف اپنے بندے کی تکلیف کو سمجھا بلکہ اس کو اپنی طرف سے خاص انعام بھی دیا۔ پھر بھلا رب کریم کا تحفہ دنیا وما فیہا سے عزیز تر کیوں نہ ہو؟
حقیقت یہ ہے کہ اللہ کو اپنے ہر بندے سے گہری دلچسپی ہے اور اگرچہ یہ دنیا امتحان گاہ ہے لیکن حالت امتحان میں اللہ اپنے بندے کو تنہا نہیں چھوڑتے اور مختلف شکلوں میں اس کی دلجمعی کا سامان فرماتے ہیں۔ جب کبھی نفیسہ کی ہمت پست ہونے لگتی تو اس کے سامنے کوئی آیت، واقعہ یا خواب آجاتا جس سے اس کا حوصلہ بڑھ جاتا۔ ایک مرتبہ جب نفیسہ کو دورے کے بعد جاگ آئی تو وہ اکیلے بیٹھ کر رورہی تھی اس لئے کہ اس کی وجہ سے سب پریشان ہوجاتے اور اس بار اس کی طرف سے کوئی بےاحتیاطی بھی نہیں تھی۔ لیکن جب اس نے تسلی کی تلاش میں قرآن کھولا تو اس کے سامنے سورہ رعد کی آیات کھلیں جن میں صبر کے فضائل تھے، انہیں پڑھ کر وہ بےاختیار مسکرا پڑی۔ اسی طرح ایک مرتبہ وہ گھر سے نکلی تو اس کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی اور اس کو ڈر لگ رہا تھا کہ اس کو کچھ ہو نہ جائے۔ گھر آکر وہ سوگئی تو اس نے خواب میں دیکھا کہ وہ سورہ یونس پڑھ رہی ہے جس کی تعبیر یہ ہے کہ اگر پڑھنے والا بیمار ہے تو اللہ شفا دے گا۔ ایسے موقعوں پر نفیسہ کو اللہ پر بےحد پیار آتا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ سولہ سال کی عمر تک نفیسہ کبھی اپنی بیماری پر نہیں روئی۔ اس کی بنیادی وجہ تو یہی تھی کہ وقتی تکلیفوں کے بدلے میں جنت کی ابدی نعمتوں کی امید تھی۔ مگر اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ اس کو پوری طرح احساس نہیں تھا کہ اس کی اور اس کی قریبی لوگ کی زندگیوں پر بیماری کے کیا اثرات پڑسکتے ہیں۔ اور بعد میں واقعتا اس کو علاج کی خاطر اپنے کچھ طےشدہ منصوبے ترک کرنے پڑے، لیکن جو کچھ اس کو چھوڑنا پڑا اللہ نے اس کے بدلے میں کئی بہتر مواقع فراہم کیے۔
یہاں تک کہ جس چیز کے بارے میں اس کے والدین کو سب سے زیادہ فکر تھی، یعنی اس کی شادی، وہ بھی اللہ نے نہایت آسانی سے طے کیا۔ نفیسہ کے اپنے ہی خاندان سے ایک شریف دیندار گھرانے کا رشتہ آیا اور بیماری کی تمام تفصیلات کھول کر بتانے کے باوجود انہوں نے یہ کہہ کر بات پکی کی کہ ہم دین کی خاطر رشتہ کر رہے ہیں۔ پھر بعد میں انہوں نے واقعی پوری محبت کے ساتھ اس کا خیال رکھا۔ اس رشتے سے پہلے نفیسہ کے والدین نے ایک بار اس کو حقیقت سے آگاہ کرنے کے لئے اس کو بٹھا کر سمجھایا تھا کہ اس کی بیماری اس کی شادی میں رکاوٹ بننے کا امکان رکھتی ہے۔ والدین کے سامنے تو اس نے کچھ نہیں کہا لیکن بعد میں کمرے میں جاکر وہ خوب روئی۔ پھر جب اس نے قرآن کھولا تو اللہ کا یہ فرمان اس کے سامنے آیا:
“وہی ہے جس نے انسان کو پانی سے بنایا پھر اس لو خاندان والا بنایا اور سسرال والا بنایا، اور تیرا رب بڑی قدرت والا ہے۔” (الفرقان: 54)
نفیسہ کی نگاہیں اس آیت پر جم گئیں، پھر وہ بےاختیار شرما کر مسکرانے لگی۔ اس نے سوچا کہ واقعی اللہ نے تو میری پیدائش سے پہلے ہی یہ فیصلے لکھ لیے تھے۔
آخری بات یہ ہے کہ بیماری کے ذریعے نفیسہ کی شخصیت میں بہت مضبوطی آئی۔ نیز خود مختلف تکلیفوں سے گذر کر اس میں دوسروں کی تکلیف محسوس کرنے کی صلاحیت بڑھی۔ وہ ہمیشہ اپنے ایک استاد کی بات یاد کرتی کہ کبھی اللہ صرف اس لئے انسان کو کسی مشکل میں ڈالتے ہیں تاکہ اس کو پتہ چلے کہ ایسی صورتحال سے گذرنا کیسا ہوتا ہے۔ پس اللہ کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے۔
“کوئی مصیبت نہیں پہنچتی سوائے اللہ کی اجازت سے۔ اور جو کوئی اللہ پر ایمان رکھتا ہے اللہ اس کے دل کو (صبر ورضا کی) راہ دکھلاتا ہے۔ اور اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔” (التغابن)
– زینب واسع
مطبوعہ “خواتین کا اسلام”، شمارہ 867
Back to Top