Create an Account
ایمان اور آزمائش
قرآن میں اللہ تعالی کئی مرتبہ ذکر کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں آزمانے کے لئے پیدا کیا ہے۔ چنانچہ سورہ ملک میں اللہ کا ارشاد ہے: “جس نے موت اور زندگی اس لیے پیدا کی تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے عمل میں زیادہ بہتر کون ہے۔” اسی طرح سورہ انعام آیت 165، سورہ ہود آیت 7، سورہ کہف آیت 7 اور دیگر سورتوں میں بھی اس بات کو دوہرایا گیا ہے۔ لیکن آگے بڑھنے سے پہلے ہم یہ سمجھ لیں کہ آزمائش کا مقصد کیا ہے؟
دنیا میں آگے بڑھنے کے لئے ہم انگنت امتحان دے ریے ہوتے ہیں، اس لئے کہ امتحانات دیے بغیر کبھی بھی ترقی نہیں ہوسکتی ہے۔ کوئی بھی اسکول ایسے بچے کو قبول نہیں کرے گا جس کے والدین یہ شرط لگائیں کہ یہ بہت لاڈلا ہے لہذا اس کا امتحان مت لیجئے گا۔ پس، ہر قابل قدر چیز کی طرح جنت کی بھی ایک قیمت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: “سن لو، بےشک اللہ کا سودا مہنگا سودا ہے۔ سن لو، بےشک اللہ کا سودا جنت ہے۔” (ترمذی) اگر اسکول والے امتحان نہ لیں تو ہم پریشان ہوجاتے ہیں، لیکن اگر اللہ کی طرف سے امتحان آجائے تو انسان کبھی سوچتا ہے کہ کیا میں ہی رہ گیا تھا؟ ہم اللہ سے آسان امتحان مانگتے ہیں، لیکن امتحان ہوگا ضرور۔
امتحان کے ذریعہ ہی کھوٹے اور کھرے کا فرق پتہ چلتا ہے۔ ایک صحابی تھے جن کو کافروں نے ظلم وتشدد کا نشانہ بنایا ہوا تھا۔ کافر چلاکر پوچھتے کہ کہاں ہے تمہارا رب؟ وہ تمہیں کیوں نہیں بچاتا؟ وہ جواب دیتے کہ جب تم مٹکا بھی خریدتے ہو تو اس کو بجا کر آزماتے ہو کہ یہ مضبوط ہے یا کھوکھلا۔ میرا رب بھی مجھے آزمارہا ہے کہ میں جنت کے قابل ہوں یا نہیں۔
اس امتحان میں ممتحن اللہ تعالی ہیں اور اسی نے امتحان کی کتاب (textbook) یعنی قرآن کریم ہمارے لئے اتارا ہے۔ بلاشبہ تلاوت قرآن پر بھی اجر ہے، لیکن قرآن دراصل عمل کی کتاب ہے۔ اگر اس کو سمجھ کر اس کو اپنے عمل میں لائیں گے تو دنیا اور آخرت کے مراحل آسانی سے طے ہو پائیں گے۔
استاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا: “میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔” (ابن ماجہ) اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی زندہ مثال تھے (بخاری)۔ آپ علیہ السلام سے محبت کرنا تو ہمارے ایمان کا حصہ ہے، لیکن جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھ کر ان کے نقش قدم پر نہ چلا جائے تو زندگی کا امتحان صحیح حل نہیں ہوپائے گا۔ “اور رسول تمہیں جو کچھ دیں وہ لے لو۔ اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔” (الحشر: 7)
امتحان کس چیز کا ہے؟ گھروں اور گاڑیوں کا؟ گریڈوں اور نمبروں کا؟ نہیں، بلکہ “تم میں سے بہترین عمل کرنے والا کون ہے۔” (الملک: 2) نیک اعمال ہی آخرت کی کرنسی ہے اور اسی کے لئے ہماری دوڑ ہونی چاہئے: “پس تم نیک کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔” (البقرہ: 148)
نتیجہ کب آئے گا؟ نتیجہ آخرت میں آئے گا: “پھر جس کسی کو دوزخ سے ہٹالیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ صحیح معنی میں کامیاب ہوگیا۔” (آل عمران: 185) جیسے بئر معونہ کے واقعہ میں ایک شخص نے حرام بن ملحان کو پیچھے سے نیزہ مار کر شہید کیا۔ جب انہوں نے اپنے سینے سے نیزہ کی کنی نکلتی دیکھی تو پکار اٹھے: “رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا!” (بخاری)۔ قاتل یہ بات سن کر حیرت میں ڈوب گیا کہ میں نے اس کو قتل کیا اور اس نے کہا میں کامیاب ہوگیا؟ پھر جب اس کو پتہ چلا کہ اسلام میں کامیابی اور ناکامی کے تصورات نے آخرت کی وسعتوں کو سمیٹا ہوا ہے اور وہ محض اس دنیائے فانی تک محدود نہیں ہیں تو اس نے رب العالمین کے آگے اپنا سر جھکالیا اور مشرف بااسلام ہوا۔
یہ دنیا کمرہ امتحان ہے، “جو چیز زمین پر ہے ہم نے اس کو زمین کے لئے آرائش بنایا ہے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں۔” (الکہف: 7)۔ امتحان کے ختم ہونے کے ساتھ یہ بھی ختم ہوجائے گا: “آخرکار ہم اس سب کو ایک چٹیل میدان بنادینے والے ہیں۔” (الکہف: 8)
جبکہ اس دنیا میں جو کچھ ہے وہ ہمارے پرچے اور اسباب امتحان ہیں۔ بہن بھائی سے لے کر گاڑی اور گھر تک: “تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو تمہارے لیے ایک آزمائش ہیں۔” (التغابن: 15)۔ ان پرچوں کو ہم نے بحسن وخوبی ادا کرکے اپنا مقصد، یعنی رضائے الہی اور جنت، حاصل کرنا ہے نہ کہ انہی کو اپنا مقصد بنائیں۔
دنیا کے امتحانات میں ہر تھوڑی دیر بعد ایک نئی نسل (batch) آتی ہے اور اس کا از سر نو امتحان لیا جاتا ہے۔ اسی طرح جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو عرب میں ارتداد کی لہڑ دوڑ گئی اور ہر طرف سے مشکلات نے گھیر لیا۔ انسان سوچ سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا غم تو کافی تھا، اس کے باوجود اتنی مزید مشکلات؟ مگر دراصل صحابہ تو مختلف امتحانوں سے گذر کر اعلی درجات حاصل کرچکے تھے۔ لیکن اب مسلمانوں کی ایک نئی کھیپ آگئ تھی اور ان کا امتحان بھی ضروری تھا (جبکہ صحابہ مزید بلند درجات حاصل کرتے گئے)۔
پچھلے امتحانات (past papers) سے بھی سیکھا جاتا ہے، اس لیے کہ سوال اور طرز سوال دوہرائے جاتے ہیں۔ اللہ تعالی نے قرآن میں ابراہیم علیہ السلام اور نمرود، موسی علیہ السلام اور فرعون کے قصے ہمیں اتنی مرتبہ اسی لیے سنائے ہیں کیونکہ ہم ہر دور میں ان سے ملتے جلتے کرداروں کو پائیں گے:
آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے
واقعات دوہرانے کا یہی مقصد ہے کہ ہم ان کرداروں کی پہچان، ان کے انجام سے واقفیت، نیکوکاروں سے حوصلہ اور بدکاروں سے عبرت کے اسباق حاصل کریں۔
جن لوگ نے اس زندگی کو آزمائش جان کر گذاری ان کی بلندیاں ہی اور تھیں۔ اگر یہ ایک تصور درست ہوجائے تو سوچ اور عمل کی بہت ساری کجیاں دور ہوجاتی ہیں۔ آج دنیا میں مسلمانوں کے بھی جو حالات ہیں، اللہ چاہے تو ایک لمحے میں ان کو درست کرسکتا ہے۔ لیکن اللہ دراصل ہمیں بھی آزمارہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ حق اور باطل کی کشمکش میں ہم میں سے کون اپنا حصہ ادا کررہا ہے اور کون محض تماشائی بنا بیٹھا ہے۔ “اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنادیتا لیکن (اس نے ایسا نہیں کیا) تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے اس میں وہ تمہیں آزمائے۔” (المائدہ: 48)
جب امتحانات گذر جائیں گے اور پورا انعام اور ثواب وصول ہوجائے گا تو انسان ان تمام سختیاں کو بھول جائے گا جو اس نے جھیلیں تھیں۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ قیامت کے دن اہل جنت میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا جس نے دنیا میں انتہائی تکلیف دہ زندگی گذاری تھی۔ اس کو جنت میں ایک بار ڈبکی دی جائے گی، پھر اللہ تعالی اس سے پوچھیں گے: “اے ابن آدم، تم نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی؟ کیا تم کبھی کسی پریشانی سے گذرے؟” وہ جواب دے گا کہ نہیں اللہ کی قسم یا رب، میں نے کبھی کسی قسم کی تکلیف نہیں دیکھی۔
اللہ تعالی ہم سب کو کامیاب کرے۔ آمین۔
– زینب واسع
(اس مضمون کی اشاعت ماہنامہ جون 2018ء میں فہم دین میں اور 5 فروری 2018ء میں روزنامہ اسلام کے جھلمل حصے میں ہوئی۔)
Back to Top